7 اشعار

ہم ایک عمر جلے شمع رہ گزر کی طرح

Hum ek umar jale shama-e-rahguzar ki tarah

ہم ایک عمر جلے شمع رہ گزر کی طرحاجالا غیروں سے کیا مانگتے قمر کی طرح

کہاں کے جیب و گریباں جگر بھی چاک ہوئےبہار آئی قیامت کے نامہ بر کی طرح

کرم کہو کہ ستم دل دہی کا ہر اندازاتر اتر سا گیا دل میں نیشتر کی طرح

نہ حادثوں کی کمی ہے نہ شورشوں کی کمیچمن میں برق بھی پلتی ہے بال و پر کی طرح

نہ جانے کیوں یہاں ویرانیاں برستی ہیںسبھی کے گھر ہیں بظاہر ہمارے گھر کی طرح

خدا کرے کہ سدا کاروبار شوق چلےجو بے نیاز ہو منزل سے اس سفر کی طرح

بس اور کیا کہیں روداد زندگی تاباںؔچمن میں ہم بھی ہیں اک شاخ بے ثمر کی طرح

— غلام ربانی تاباں