7 اشعار

وہ نازک سا تبسم رہ گیا وہم حسیں بن کر

Woh nazuk sa tabassum reh gaya wahm-e-haseen ban kar

وہ نازک سا تبسم رہ گیا وہم حسیں بن کرنمایاں ہو گیا ذوق ستم چین جبیں بن کر

بہت اترا رہی ہے رات زلف عنبریں بن کربہت مغرور ہے نور سحر رنگ جبیں بن کر

مری جامہ دری نے راز یہ کھولا زمانے پرخرد دھوکے دیا کرتی ہے جیب و آستیں بن کر

کرم میں بھی مگر اک غمزۂ خوں ریز شامل تھانگاہوں کی طرف اٹھی تو دل کی نکتہ چیں بن کر

مری دیوانگی تھی اک شرار آرزو دل میںبڑھی تو دار پر روشن ہوئی شمع یقیں بن کر

پیام آتے رہے اکثر کسی محو تغافل کےادائے برملا بن کر نگاہ شرمگیں بن کر

وہ اک سجدہ نہ ہو پایا جو برباد حرم تاباںؔجبین شوق پر روشن ہے پندار جبیں بن کر

— غلام ربانی تاباں