7 اشعار

لطف کا ربط ہے کوئی نہ جفا کا رشتہ

Lutf ka rabt hai koi na jafa ka rishta

لطف کا ربط ہے کوئی نہ جفا کا رشتہدل سے کچھ دور ہے ظالم کی انا کا رشتہ

دست عیسیٰ بھی وہی بازوئے قاتل بھی وہیکتنا نازک ہے چراغوں سے ہوا کا رشتہ

جبر حالات کہو غم کی مکافات کہوٹوٹ بھی جاتا ہے ہونٹوں سے نوا کا رشتہ

سوچیے تو سبھی اپنے ہیں کوئی غیر نہیںحاکم شہر سے ہے جرم و سزا کا رشتہ

منظر زیست میں کچھ رنگ تو بھر دیتا ہےخار زاروں سے کسی آبلہ پا کا رشتہ

پھول نایاب سہی زخم تو نایاب نہیںآج بھی دل سے وہی آب و ہوا کا رشتہ

کیا کریں رسم زمانہ کی شکایت تاباںؔدرد سے رکھتے ہیں ہم لوگ سدا کا رشتہ

— غلام ربانی تاباں