7 اشعار

شرح جاں سوزیٔ غم عرض وفا کیا کرتے

Sharh-e-jaan-sozi-e-gham arz-e-wafa kya karte

شرح جاں سوزیٔ غم عرض وفا کیا کرتےتم بھی اک جھوٹی تسلی کے سوا کیا کرتے

شیشہ نازک تھا ذرا چوٹ لگی ٹوٹ گیاحادثے ہوتے ہی رہتے ہیں گلا کیا کرتے

رات نے چھیڑ دیے بھولے ہوئے افسانےجاگ کر صبح نہ کرتے تو بھلا کیا کرتے

اپنی کشتی کو بھی مل جاتا کنارہ شایدتند تھی موج مخالف تھی ہوا کیا کرتے

جذبۂ شوق کو اظہار کی فرصت نہ ملیلفظ و معنی کا فسوں ٹوٹ گیا کیا کرتے

دل کو وہ درد ملا جس کا مداوا نہ علاجمیرے مونس مرے غم خوار بھلا کیا کرتے

تھی نہ کیا کیا ہوس سیر و تماشا تاباںؔراستے پاؤں کی زنجیریں بنا کیا کرتے

— غلام ربانی تاباں