7 اشعار

رہ گزر ہو یا مسافر نیند جس کو آئے ہے

rahguzar ho ya musafir neend jis ko aaye hai

رہ گزر ہو یا مسافر نیند جس کو آئے ہےگرد کی میلی سی چادر اوڑھ کے سو جائے ہے

قربتیں ہی قربتیں ہیں دوریاں ہی دوریاںآرزو جادو کے صحرا میں مجھے دوڑائے ہے

وقت کے ہاتھوں ضمیر شہر بھی مارا گیارفتہ رفتہ موج خوں سر سے گزرتی جائے ہے

میری آشفتہ سری وجہ شناسائی ہوئیمجھ سے ملنے روز کوئی حادثہ آ جائے ہے

یوں تو اک حرف تسلی بھی بڑی شے ہے مگرایسا لگتا ہے وفا بے آبرو ہو جائے ہے

زندگی کی تلخیاں دیتی ہیں خوابوں کو جنمتشنگی صحرا میں دریا کا سماں دکھلائے ہے

کس طرح دست ہنر میں بولنے لگتے ہیں رنگمدرسے والوں کو تاباںؔ کون سمجھا پائے ہے

— غلام ربانی تاباں