9 اشعار

سر تا بہ قدم ایک حسیں راز کا عالم

sar ta ba qadam ek haseen raaz ka alam

سر تا بہ قدم ایک حسیں راز کا عالماللہ رے اک فتنہ گر ناز کا عالم

زلفوں میں وہ برسات کی راتوں کی جوانیعارض پہ وہ انوار سحر ساز کا عالم

عنوان سخن غالبؔ و مومنؔ کا تغزلانداز نظر بادۂ شیراز کا عالم

دزدیدہ نگاہوں میں اک الہام کی دنیانازک سے تبسم میں اک اعجاز کا عالم

الجھے ہوئے جملوں میں شرارت بھی حیا بھیجذبات میں ڈوبا ہوا آواز کا عالم

اس سادگی حسن میں کس درجہ کشش ہےہر ناز میں اک جذبۂ غماز کا عالم

اس صید کو کیا کہیے جو خود آئے تہ دامدل میں لیے اک حسرت پرواز کا عالم

یوں تو نہ تساہل نہ تغافل نہ تجاہلکچھ اور ہے اس کافر طناز کا عالم

شوخی میں شرارت میں متانت میں حیا میںجو راز کا عالم تھا وہی راز کا عالم

— غلام ربانی تاباں