7 اشعار

شباب حسن ہے برق و شرر کی منزل ہے

shabab-e-husn hai barq-o-sharar ki manzil hai

شباب حسن ہے برق و شرر کی منزل ہےیہ آزمائش قلب و نظر کی منزل ہے

سواد شمس و قمر بھی بشر کی منزل ہےابھی تو پرورش بال و پر کی منزل ہے

یہ مے کدہ ہے کلیسا و خانقاہ نہیںعروج فکر و فروغ نظر کی منزل ہے

ہمیں تو راس ہی آئی فغاں کی بے اثریمگر بتاؤ تو کوئی اثر کی منزل ہے

وہ رہبرئ جناب خضر کی منزل تھییہ رہنمائی فکر بشر کی منزل ہے

یہ راز پا نہ سکے صاحبان ہوش و خردجنوں بھی اک نگہ پردہ در کی منزل ہے

قیام شامل مشق خرام ہے تاباںؔسفر کا ترک بھی گویا سفر کی منزل ہے

— غلام ربانی تاباں