7 اشعار

آنکھوں میں جل رہا ہے پہ بجھتا نہیں دھواں

Aankhon mein jal raha hai pe bujhta nahin dhuaan

آنکھوں میں جل رہا ہے پہ بجھتا نہیں دھواں

«آنکھوں میں جل رہا ہے پہ بجھتا نہیں دھواں» گلزار کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

آنکھوں میں جل رہا ہے پہ بجھتا نہیں دھواںاٹھتا تو ہے گھٹا سا برستا نہیں دھواں

پلکوں کے ڈھانپنے سے بھی رکتا نہیں دھواںکتنی انڈیلیں آنکھیں پہ بجھتا نہیں دھواں

آنکھوں سے آنسوؤں کے مراسم پرانے ہیںمہماں یہ گھر میں آئیں تو چبھتا نہیں دھواں

چولھے نہیں جلائے کہ بستی ہی جل گئیکچھ روز ہو گئے ہیں اب اٹھتا نہیں دھواں

کالی لکیریں کھینچ رہا ہے فضاؤں میںبورا گیا ہے منہ سے کیوں کھلتا نہیں دھواں

آنکھوں کے پوچھنے سے لگا آگ کا پتہیوں چہرہ پھیر لینے سے چھپتا نہیں دھواں

چنگاری اک اٹک سی گئی میرے سینے میںتھوڑا سا آ کے پھونک دو اڑتا نہیں دھواں

— گلزار