دھڑکتا جاتا ہے دل مسکرانے والوں کا
کلام: کلیم عاجز
دھڑکتا جاتا ہے دل مسکرانے والوں کااٹھا نہیں ہے ابھی اعتبار نالوں کا
یہ مختصر سی ہے روداد صبح مے خانہزمیں پہ ڈھیر تھا ٹوٹے ہوئے پیالوں کا
شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)
مہمان شاعر: کلیم عاجز
دھڑکتا جاتا ہے دل مسکرانے والوں کااٹھا نہیں ہے ابھی اعتبار نالوں کا
یہ مختصر سی ہے روداد صبح مے خانہزمیں پہ ڈھیر تھا ٹوٹے ہوئے پیالوں کا
تجھ سے ناراض نہیں زندگیحیران ہوں میں
تیرے معصوم سوالوں سےپریشان ہوں میں