9 اشعار

آبلے پاؤں کے کیا تو نے ہمارے توڑے

Aable paon ke kya tu ne hamare tode

آبلے پاؤں کے کیا تو نے ہمارے توڑے

«آبلے پاؤں کے کیا تو نے ہمارے توڑے» حیدر علی آتش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

آبلے پاؤں کے کیا تو نے ہمارے توڑےخار صحرائے جنوں عرش کے تارے توڑے

ذقن و رخ میں نہ جاسوسوں سے باقی رکھیثمر گل چمن حسن کے سارے توڑے

سلسلہ اپنی گرفتاری کا کب قطع ہواپہنی پازیب انہوں نے جو اتارے توڑے

مست مجھ سا بھی کوئی نشہ کا ہوگا نہ حریصپی کے مے جام کے دانتوں سے کنارے توڑے

شربت وصل ہے تنقید کی خاطر موجودتپ ہجر آ کے بدن کو نہ ہمارے توڑے

ختم دزدیدہ نگہ پر ہے تری طراریدل نہیں توڑے احبا کے پٹارے توڑے

آ گیا وہ شجر حسن نظر جب ہم کوبوسہ لے کر لب شیریں کے چھوارے توڑے

عشق بے درد سے کرنے کو کہا تھا کس نےسر کو ٹکرا کے نہ دل درد کے مارے توڑے

کنج عزلت میں بٹھایا ہے خدا نے آتشؔاب جو تم یاں سے ہلے پاؤں تمہارے توڑے

— حیدر علی آتش