9 اشعار

خُدا کرے نہ تمھیں میرے حال سے واقف

Khuda kare na tumhein mere haal se waqif

خُدا کرے نہ تمھیں میرے حال سے واقف

«خُدا کرے نہ تمھیں میرے حال سے واقف» حیدر علی آتش کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ حیدر علی آتش» میں 22 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

خُدا کرے نہ تمھیں میرے حال سے واقفنہ ہو مزاجِ مبارک ملال سے واقف

نہیں جو روز شب وماہ وسال سے واقفوہی ہے خُوب زمانےکے حال سے واقف

زباں سے کِس کی مہِ چاردہ نہیں سُنتے!زمانہ ہے تِرے فضل و کمال سے واقف

دُعائے خیر ، یہی ہے مری حَسِینوں کونہ ہو کمال تمھارا زوال سے واقف

فسانہ طُورِ تجلّی کا سُن کے، کان کُھلے!نہ تھے کرشمۂ حُسن و جمال سے واقف

فنا کے بعد کُھلا دِل کو عِشق کا پردہتمام ہو کے ہُوئے ہم کمال سے واقف

ازل سے محرمِ رازِ پَری ہُوں مَیں مجنُوںمیرے فرشتے نہیں میرے حال سے واقف

نہ چند روزِ جُدائی بھی مُنقَضی ہوں گےکہاں فراق، ہُوئے جب وصال سے واقف

رقیب مبتذل اُس گُل عذار کے ہوںیہ خار و خس نہیں آتشؔ کے حال سے واقف

— حیدر علی آتش

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں