9 اشعار

خوشا وہ دل کہ ہو جس دل میں‌ آرزو تیری

Khusha woh dil ke ho jis dil mein aarzoo teri

خوشا وہ دل کہ ہو جس دل میں‌ آرزو تیری

«خوشا وہ دل کہ ہو جس دل میں‌ آرزو تیری» حیدر علی آتش کا کلام ہے، جسے حمایت اللہ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ حیدر علی آتش» میں 22 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

خوشا وہ دل کہ ہو جس دل میں‌ آرزو تیریخوشا دماغ جسے تازہ رکھّے بُو تیری

پھرے ہیں مشرق و مغرب سے تا جنوب و شمالتلاش کی ہے صنم ہم نے چار سُو تیری

شبِ فراق میں اک دم نہیں قرار آیاخدا گواہ ہے، شاہد ہے آرزو تیری

دماغ اپنا بھی اے گُلبدن معطّر ہےصبا ہی کے نہیں حصّے میں آئی بُو تیری

مری طرف سے صبا کہیو میرے یوسف سےنکل چلی ہے بہت پیرہن سے بو تیری

شبِ فراق میں، اے روزِ وصل، تا دمِ صبحچراغ ہاتھ میں ہے اور جستجو تیری

جو ابر گریہ کناں ہے تو برق خندہ زناںکسی میں خُو ہے ہماری، کسی میں خُو تیری

کسی طرف سے تو نکلے گا آخر اے شہِ حُسنفقیر دیکھتے ہیں راہ کو بہ کو تیری

زمانے میں کوئی تجھ سا نہیں ہے سیف زباںرہے گی معرکے میں آتش آبرو تیری

— حیدر علی آتش

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں