9 اشعار

پسے دل اس کی چتون پر ہزاروں

Pa-e-dil us kī chatūn par hazārōñ

پسے دل اس کی چتون پر ہزاروں

«پسے دل اس کی چتون پر ہزاروں» حیدر علی آتش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

پسے دل اس کی چتون پر ہزاروںموے بے ساختہ پن پر ہزاروں

مری ضد سے ہوا ہے مہرباں دوستمرے احساں ہیں دشمن پر ہزاروں

براے شکر قاتل رونگٹوں سےزبانیں ہیں مرے تن پر ہزاروں

نہ اٹکھیلی سے چل ہوتے ہیں صدمےدل شیخ و برہمن پر ہزاروں

ہوا سر خم نہ زیر تیغ جلادرہے بوجھ اپنی گردن پر ہزاروں

ترے کشتہ ہیں ہم آنکھیں ملیں گےہمارے سنگ مدفن پر ہزاروں

نہ مل اے لعبت چین عطر گل زارگلا کاٹیں گے گلشن پر ہزاروں

نہیں اک مرد کو دنیا سے مطلبمریں نامرد اس زن پر ہزاروں

عجب کیا ہے اگر پروانے بے شمعجلیں آتشؔ کے مدفن پر ہزاروں

— حیدر علی آتش