9 اشعار

عِشق کے سَودے سے پہلے دردِ سر کوئی نہ تھا

Ishq ke saude se pehle dard-e-sar koi na tha

عِشق کے سَودے سے پہلے دردِ سر کوئی نہ تھا

«عِشق کے سَودے سے پہلے دردِ سر کوئی نہ تھا» حیدر علی آتش کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ حیدر علی آتش» میں 22 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 32 سیکنڈ ہے۔

عِشق کے سَودے سے پہلے دردِ سر کوئی نہ تھاداغِ دِل خندہ زن، زخمِ جِگر کوئی نہ تھا

جوہری کی آنکھ سے دیکھے جواہر بیشترلعلِ لب سالعل، دنداں سا گُہر کوئی نہ تھا

خوب صُورت یُوں تو بہتیرے تھے، لیکن یار سا!نازنیں، نازک بدن، نازک کمر کوئی نہ تھا

رہ گئی دِل ہی میں اپنے حسرتِ اِظہارِ شوقلکھ کے خط جب ہم نے ڈھونڈھا، نامہ برکوئی نہ تھا

دوست دشمن، یار رکھتا ، خاطر اپنی کیا عزیزعیبِ اُلفت کے سِوا، ہم میں ہُنر کوئی نہ تھا

دیدہ و دِل تھے منوّر تیرے نُورِ حُسن سےجلوہ فرما ہو نہ تُوجس میں، وہ گھر کوئی نہ تھا

عشق کِس کو حُسنِ دلکش سے نہ تھا، اے جانِ جاں!فکر سے غافِل تِری، جِن و بَشر کوئی نہ تھا

چاشنی دونوں کی چکھی ہےجو حق حق پُوچھیےاُن لَبِ شِیرِیں سے شِیرِیں نیشکر کوئی نہ تھا

لے چَلےہستی سے داغِ عِشق آتشؔ ،شُکر ہےمنزِلِ مُلکِ عَدم کا، ہمسفر کوئی نہ تھا

— حیدر علی آتش

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں