16 اشعار

آشنا گوش سے اس گل کے سخن ہے کس کا

Aashna gosh se us gul ke sukhan hai kis ka

آشنا گوش سے اس گل کے سخن ہے کس کا

«آشنا گوش سے اس گل کے سخن ہے کس کا» حیدر علی آتش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

آشنا گوش سے اس گل کے سخن ہے کس کاکچھ زباں سے کہے کوئی یہ دہن ہے کس کا

پیشتر حشر سے ہوتی ہے قیامت برپاجو چلن چلتے ہیں خوش قد یہ چلن ہے کس کا

دست قدرت نے بنایا ہے تجھے اے محبوبایسا ڈھالا ہوا سانچے میں بدن ہے کس کا

کس طرح تم سے نہ مانگیں تمہیں انصاف کروبوسہ لینے کا سزا وار دہن ہے کس کا

شادیٔ مرگ سے پھولا میں سمانے کا نہیںگور کہتے ہیں کسے نام کفن ہے کس کا

دہن تنگ ہے موہوم یقیں ہے کس کوکمر یار ہے معدوم یہ ظن ہے کس کا

مفسدے جو کہ ہوں اس چشم سیہ سے کم ہیںفتنہ پردازی جسے کہتے ہیں فن ہے کس کا

ایک عالم کو ترے عشق میں سکتا ہوگاصاف آئینہ سے شفاف بدن ہے کس کا

حسن سے دل تو لگا عشق کا بیمار تو ہوپھر یہ عناب لب و سیب ذقن ہے کس کا

گلشن حسن سے بہتر کوئی گل زار نہیںسنبل اس طرح کا پر پیچ و شکن ہے کس کا

باغ عالم کا ہر اک گل ہے خدا کی قدرتباغباں کون ہے اس کا یہ چمن ہے کس کا

خاک میں اس کو ملاؤں اسے برباد کروںجان کس کی ہے مری جان یہ تن ہے کس کا

سرو سا قد ہے نہیں مد نظر کا میرےگل سا رخ کس کا ہے غنچہ سا دہن ہے کس کا

کیوں نہ بے ساختہ بندے ہوں دل و جاں سے نثارقدرت اللہ کی بے ساختہ پن ہے کس کا

آج ہی چھوٹے جو چھٹتا یہ خرابہ کل ہوہم غریبوں کو ہے کیا غم یہ وطن ہے کس کا

یار کو تم سے محبت نہیں تو اے آتشؔخط میں القاب یہ پھر مشفق من ہے کس کا

— حیدر علی آتش