9 اشعار

برق کو اس پر عبث گرنے کی ہیں تیاریاں

Barq ko is par abas girne kī haiñ tayyāriyāñ

برق کو اس پر عبث گرنے کی ہیں تیاریاں

«برق کو اس پر عبث گرنے کی ہیں تیاریاں» حیدر علی آتش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

برق کو اس پر عبث گرنے کی ہیں تیاریاںبرگ گل ہی آشیاں کو اپنے ہے چنگاریاں

عہد طفلی میں بھی تھا میں بسکہ سودائی مزاجبیڑیاں منت کی بھی پہنیں تو میں نے بھاریاں

موت کے آتے ہی ہم کو خود بخود نیند آ گئیکیا اسی کی یاد میں کرتے تھے شب بیداریاں

اے خط اس کے گورے گالوں پر یہ تو نے کیا کیاچاندنی راتیں یکایک ہو گئیں اندھیاریاں

خندۂ گل سے صدائے نالہ آتی ہے مجھےخون بلبل سے مگر سینچی گئی ہیں کیاریاں

خاک کا پتلا بھی آہن سے ہے سختی میں فزوںجسم پر انساں کے تلواریں ہوئی ہیں آریاں

خوف خالق ہے وگرنہ محتسب کیا مال ہےخانۂ قاضی میں جا کر کیجئے مے خواریاں

کچھ ہمیں خالی نہیں کرتے ہیں یہ دیر خرابپھر گئے ہیں یار یوں ہی اپنی اپنی باریاں

حکم کر آتشؔ کہ بازار محبت بند ہواب کریں ٹٹپوجئے گرم اپنی دوکاں داریاں

— حیدر علی آتش