7 اشعار

ہوائے دور مے خوش گوار راہ میں ہے

Hawa-e-daur-e-mai khush-gawar raah mein hai

ہوائے دور مے خوش گوار راہ میں ہے

«ہوائے دور مے خوش گوار راہ میں ہے» حیدر علی آتش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

ہوائے دور مے خوش گوار راہ میں ہےخزاں چمن سے ہے جاتی بہار راہ میں ہے

گدا نواز کوئی شہسوار راہ میں ہےبلند آج نہایت غبار راہ میں ہے

عدم کے کوچ کی لازم ہے فکر ہستی میںنہ کوئی شہر نہ کوئی دیار راہ میں ہے

نہ بدرقہ ہے نہ کوئی رفیق ساتھ اپنےفقط عنایت پروردگار راہ میں ہے

سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرےہزار ہا شجر سایہ دار راہ میں ہے

مقام تک بھی ہم اپنے پہنچ ہی جائیں گےخدا تو دوست ہے دشمن ہزار راہ میں ہے

تھکیں جو پاؤں تو چل سر کے بل نہ ٹھہر آتشؔگل مراد ہے منزل میں خار راہ میں ہے

— حیدر علی آتش