10 اشعار

کام ہمت سے جواں مرد اگر لیتا ہے

Kaam himmat se jawan-mard agar leta hai

کام ہمت سے جواں مرد اگر لیتا ہے

«کام ہمت سے جواں مرد اگر لیتا ہے» حیدر علی آتش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 17 سیکنڈ ہے۔

کام ہمت سے جواں مرد اگر لیتا ہےسانپ کو مار کے گنجینۂ زر لیتا ہے

نا گوارا کو جو کرتا ہے گوارا انساںزہر پی کر مزۂ شیر و شکر لیتا ہے

ہالے میں ماہ کا ہوتا ہے چکوروں کو یقیںکبھی انگڑائی جو وہ رشک قمر لیتا ہے

وہ زبوں بخت شجر ہوں میں کہ دہقاں میراپیچھے بوتا ہے مجھے پہلے تبر لیتا ہے

منزل فقر و فنا جائے ادب ہے غافلبادشہ تخت سے یاں اپنے اتر لیتا ہے

گنج پنہاں ہیں تصرف میں بنی آدم کےکان سے لعل یہ دریا سے گہر لیتا ہے

نظر آ جاتا ہے اے گل جسے رخسار تراپھولوں سے دامن نظارہ وہ بھر لیتا ہے

عقل کر دیتی ہے انساں کی جہالت زائلموت سے جان چھپانے کو سپر لیتا ہے

یاد رکھتا ہے عدم میں کوئی ساغر کش اسےہچکیاں شیشۂ مے شام و سحر لیتا ہے

غیرت نالہ و فریاد نہ کھو اے آتشؔآشنا کوئی نہیں کون خبر لیتا ہے

— حیدر علی آتش