5 اشعار

سر شمع ساں کٹائیے پر دم نہ ماریے

Sar sham'a saa'n kataiye par dam na maariye

سر شمع ساں کٹائیے پر دم نہ ماریے

«سر شمع ساں کٹائیے پر دم نہ ماریے» حیدر علی آتش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

سر شمع ساں کٹائیے پر دم نہ ماریےمنزل ہزار سخت ہو ہمت نہ ہاریے

مقسوم کا جو ہے سو وہ پہنچے گا آپ سےپھیلائیے نہ ہاتھ نہ دامن پساریے

طالب کو اپنے رکھتی ہے دنیا ذلیل و خوارزر کی طمع سے چھانتے ہیں خاک نیاریے

تنہائی ہے غریبی ہے صحرا ہے خار ہےکون آشنائے حال ہے کس کو پکاریے

تم فاتحہ بھی پڑھ چکے ہم دفن بھی ہوئےبس خاک میں ملا چکے چلئے سدھاریے

— حیدر علی آتش