9 اشعار

اب اس میں کاوش کوئی نہ کچھ اہتمام میرا

Ab Is Mein Kawish Koi Na Kuchh Ehtemaam Mera

اب اس میں کاوش کوئی نہ کچھ اہتمام میرا

«اب اس میں کاوش کوئی نہ کچھ اہتمام میرا» افتخارعارف کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)» میں 30 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

اب اس میں کاوش کوئی نہ کچھ اہتمام میراہوائیں محفوظ کر رہی ہیں کلام میرا

میں کچھ کریموں کے بابِ نعمت سے منسلک ہوںسو خود بخود ہو رہا ہے سب انتظام میرا

تو کیا یہی اک گُمان ہے ہر سُخن کی بنیادکہ حدِ تارِ نفس سے آگے ہو نام میرا

میں سر کشی سے سپُردگی کی طرف چلا ہوںخدا جو چاہے تو یہ بھی بن جائے کام میرا

چلا تو ہوں ایک منزلِ خوش خبر کی جانبعجب نہیں یہ سفر بھی ہو ناتمام میرا

دلوں کو تاراج کرنے آیا تھا تمکنت سےپلٹ گیا مجھ کو دیکھ کر خوش خرام میرا

جو لالہ و گُل کو خار و خس سے جُدا نہ کر پائےہر ایسے موسم کو دُور ہی سے سلام میرا

یہ قتل نامے پہ دستخط تو مرے نہیں ہیںمگر یہ خلقِ خدا جو لیتی ہے نام میرا

یہ میرے دُشمن یونہی تو پسپا نہیں ہوئے ہیںکوئی تو ہے لے رہا ہے جو انتقام میرا

— افتخارعارف

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں