6 اشعار

جاہ و جلال دام و درہم اور کتنی دیر

Jaah O Jalal Daam O Dirham Aur Kitni Der

جاہ و جلال دام و درہم اور کتنی دیر

«جاہ و جلال دام و درہم اور کتنی دیر» افتخارعارف کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)» میں 30 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

جاہ و جلال, دام و درہم اور کتنی دیرریگِ رواں پہ نقش قدم اور کتنی دیر

اب اور کتنی دیر یہ دہشت، یہ ڈر، یہ خوفگرد و غبار عہدِ ستم اور کتنی دیر

حلقہ بگوشوں، عرض گزاروں کے درمیانیہ تمکنت، یہ زعمِ کرم اور کتنی دیر

پل بھر میں ہو رہے گا حسابِ نبود و بودپیچ و خم و وجود و عدم اور کتنی دیر

دامن کے سارے چاک، گریباں کے سارے چاکہو بھی گئے بہم تو بہم اور کتنی دیر

شام آ رہی ہے، ڈوبتا سورج بتائے گاتم اور کتنی دیر ہو، ہم اور کتنی دیر

— افتخارعارف

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں