مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے
کلام: افتخارعارف
مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دےمیں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دے
یہ روشنی کے تعاقب میں بھاگتا ہوا دنجو تھک گیا ہے تو اب اس کو مختصر کر دے
وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)
مہمان شاعر: افتخارعارف
مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دےمیں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دے
یہ روشنی کے تعاقب میں بھاگتا ہوا دنجو تھک گیا ہے تو اب اس کو مختصر کر دے
تھکن تو اگلے سفر کے لیے بہانہ تھااسے تو یوں بھی کسی اور سمت جانا تھا
وہی چراغ بجھا جس کی لو قیامت تھیاسی پہ ضرب پڑی جو شجر پرانا تھا
اب اس میں کاوش کوئی نہ کچھ اہتمام میراہوائیں محفوظ کر رہی ہیں کلام میرا
میں کچھ کریموں کے بابِ نعمت سے منسلک ہوںسو خود بخود ہو رہا ہے سب انتظام میرا