حامی بھی نہ تھے منکر غالبؔ بھی نہیں تھے
کلام: افتخارعارف
حامی بھی نہ تھے منکر غالبؔ بھی نہیں تھےہم اہل تذبذب کسی جانب بھی نہیں تھے
اس بار بھی دنیا نے ہدف ہم کو بنایااس بار تو ہم شہہ کے مصاحب بھی نہیں تھے
وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)
مہمان شاعر: افتخارعارف
حامی بھی نہ تھے منکر غالبؔ بھی نہیں تھےہم اہل تذبذب کسی جانب بھی نہیں تھے
اس بار بھی دنیا نے ہدف ہم کو بنایااس بار تو ہم شہہ کے مصاحب بھی نہیں تھے
ذرا سی دیر کو آئے تھے خواب آنکھوں میںپھر اس کے بعد مسلسل عذاب آنکھوں میں
وہ جس کے نام کی نسبت سے روشنی تھا وجودکھٹک رہا ہے وہی آفتاب آنکھوں میں
جاہ و جلال, دام و درہم اور کتنی دیرریگِ رواں پہ نقش قدم اور کتنی دیر
اب اور کتنی دیر یہ دہشت، یہ ڈر، یہ خوفگرد و غبار عہدِ ستم اور کتنی دیر
سُن سانسوں کے سلطان پیاترے ہاتھ میں میری جان پیا
میں تیرے بن ویران پیاتو میرا کُل جہان پیا