5 اشعار

مفت کب آزاد کرتی ہے گرفتاری مجھے

Muft kab āzād kartī hai giriftārī mujhe

مفت کب آزاد کرتی ہے گرفتاری مجھے

«مفت کب آزاد کرتی ہے گرفتاری مجھے» انعام اللہ خاں یقین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

مفت کب آزاد کرتی ہے گرفتاری مجھےجی ہے آخر لے کے چھوڑے گی یہ بیماری مجھے

کب ہوس ہے مجھ کو رسوائی کی لیکن کیا کروںکھینچ کر لاتی ہے اس کوچہ میں لاچاری مجھے

میں جو بن غم خوار ہرگز جی نہ سکتا تھا کبھوان دنوں کرنی پڑی ہے دل کی غم خواری مجھے

عشق کے فن سے ابھی مجھ کو کہاں ہے اطلاعکچھ نہیں آتا بغیر از نالہ و زاری مجھے

کیا لگا لیتا ہے خوباں کو یقیںؔ کرتی ہے داغآئنے کی سادہ لوحی ساتھ پرکاری مجھے

— انعام اللہ خاں یقین