5 اشعار

شہر میں تھا نہ ترے حسن کا یہ شور کبھو

Shehr mein thā na tere husn kā ye shor kabhū

شہر میں تھا نہ ترے حسن کا یہ شور کبھو

«شہر میں تھا نہ ترے حسن کا یہ شور کبھو» انعام اللہ خاں یقین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

شہر میں تھا نہ ترے حسن کا یہ شور کبھومصر اس جنس سے اتنا نہ تھا معمور کبھو

عشق میں داد نہ چاہو کہ سنا ہم نے نہیںعدل و انصاف کا اس ملک میں دستور کبھو

فکر مرہم کا مرے واسطے مت کر ناصحخوب ہوتا نہیں اس عشق کا ناسور کبھو

گو نہ کر وعدہ وفا دے نہ مجھے اس کا جوابمجھ سے ملنا بھی سجن ہے تجھے منظور کبھو

اپنی بے دردی کی سوگند ہے تجھ کو اے مرگتو نے دیکھا ہے یقیںؔ سا کوئی رنجور کبھو

— انعام اللہ خاں یقین