5 اشعار

وہ کون دل ہے جہاں جلوہ گر وہ نور نہیں

Voh kaun dil hai jahāñ jalva-gar voh nūr nahīnñ

وہ کون دل ہے جہاں جلوہ گر وہ نور نہیں

«وہ کون دل ہے جہاں جلوہ گر وہ نور نہیں» انعام اللہ خاں یقین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

وہ کون دل ہے جہاں جلوہ گر وہ نور نہیںاس آفتاب کا کس ذرہ میں ظہور نہیں

کوئی شتاب خبر لو کہ بے نمک ہے بہارچمن کے بیچ دوانوں کا اب کے شور نہیں

تجلیوں سے پہنچتا ہے کب اسے آسیبصنم کدہ ہے نہ آخر یہ کوہ طور نہیں

ترے سفر کی خبر سن کے جان دھڑکوں سےجو پہنچوں مرگ کے نزدیک میں تو دور نہیں

کوئی بھی دیتا ہے لڑکوں کے ہاتھ شیشۂ دلیقیںؔ میں غور سے دیکھا تو کچھ شعور نہیں

— انعام اللہ خاں یقین