5 اشعار

اس قدر غرق لہو میں یہ دل زار نہ تھا

Is qadar ġharq-e-lahū mein ye dil-e-zār na thā

اس قدر غرق لہو میں یہ دل زار نہ تھا

«اس قدر غرق لہو میں یہ دل زار نہ تھا» انعام اللہ خاں یقین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 36 سیکنڈ ہے۔

اس قدر غرق لہو میں یہ دل زار نہ تھاجب حنا سے ترے پاؤں کو سروکار نہ تھا

حسن کا جذب زلیخا ستی کچھ چل نہ سکاورنہ یہ پاک گہر قابل بازار نہ تھا

دل میں زاہد کے جو جنت کی ہوا کی ہے ہوسکوچۂ یار میں کیا سایۂ دیوار نہ تھا

دل مرا عشق کے دھڑکوں سے موا جاتا ہےیہ وہ دل ہے کہ کوئی ایسا جگر دار نہ تھا

آپ سے کیوں نہ ہوا کہہ کے یقیںؔ کو ماراراست پوچھو تو کوئی مجھ سا گنہ گار نہ تھا

— انعام اللہ خاں یقین