7 اشعار

ایسے گھر میں رہ رہا ہوں دیکھ لے بے شک کوئی

Aise ghar mein reh raha hoon dekh le be-shak koi

ایسے گھر میں رہ رہا ہوں دیکھ لے بے شک کوئیجس کے دروازے کی قسمت میں نہیں دستک کوئی

یوں تو ہونے کو سبھی کچھ ہے مرے دل میں مگراس دکاں پر آج تک آیا نہیں گاہک کوئی

وہ خدا کی کھوج میں خود آخری حد تک گیاخود کو پانے کی مگر کوشش نہ کی انتھک کوئی

باغ میں کل رات پھولوں کی حویلی لٹ گئیچشم شبنم سے چرا کر لے گیا ٹھنڈک کوئی

دے گیا آنکھوں کو فرش راہ بننے کا صلہدے گیا بینائی کو سوغات میں دیمک کوئی

ایک بھی خواہش کے ہاتھوں میں نہ مہندی لگ سکیمیرے جذبوں میں نہ دولہا بن سکا اب تک کوئی

وہ بھی ساجدؔ تھا مرے جذبوں کی چوری میں شریکاس کی جانب کیوں نہیں اٹھی نگاہ شک کوئی

— اقبال ساجد