7 اشعار

پتہ کیسے چلے دنیا کو قصر دل کے جلنے کا

Pata kaise chale duniya ko qasr-e-dil ke jalne ka

پتہ کیسے چلے دنیا کو قصر دل کے جلنے کادھوئیں کو راستہ ملتا نہیں باہر نکلنے کا

بتا پھولوں کی مسند سے اتر کے تجھ پہ کیا گزریمرا کیا میں تو عادی ہو گیا کانٹوں پہ چلنے کا

مرے گھر سے زیادہ دور صحرا بھی نہیں لیکناداسی نام ہی لیتی نہیں باہر نکلنے کا

چڑھے گا زہر خوشبو کا اسے آہستہ آہستہکبھی بھگتے گا وہ خمیازہ پھولوں کو مسلنے کا

مسلسل جاگنے کے بعد خواہش روٹھ جاتی ہےچلن سیکھا ہے بچے کی طرح اس نے مچلنے کا

زر دل لے کے پہنچا تھا متاع جاں بھی کھو بیٹھادیا اس نے نہ موقع بھی کف افسوس ملنے کا

خوشی سے کون کرتا ہے غموں کی پرورش ساجدؔکسے ہے شوق لوگو درد کے سانچے میں ڈھلنے کا

— اقبال ساجد