5 اشعار

اپنی انا کی آج بھی تسکین ہم نے کی

Apni ana ki aaj bhi taskeen hum ne ki

اپنی انا کی آج بھی تسکین ہم نے کیجی بھر کے اس کے حسن کی توہین ہم نے کی

لہجے کی تیز دھار سے زخمی کیا اسےپیوست دل میں لفظ کی سنگین ہم نے کی

لائے بروئے کار نہ حسن و جمال کوموقع تھا پھر بھی رات نہ رنگین ہم نے کی

جی بھر کے دل کی موت پہ رونے دیا اسےپرسا دیا نہ صبر کی تلقین ہم نے کی

دریا کی سیر کرنے اکیلے چلے گئےشام شفق کی آپ ہی تحسین ہم نے کی

— اقبال ساجد