9 اشعار

سورج ہوں زندگی کی رمق چھوڑ جاؤں گا

Suraj hun zindagi ki ramaq chhoD jaunga

سورج ہوں زندگی کی رمق چھوڑ جاؤں گامیں ڈوب بھی گیا تو شفق چھوڑ جاؤں گا

تاریخ کربلائے سخن! دیکھنا کہ میںخون جگر سے لکھ کے ورق چھوڑ جاؤں گا

اک روشنی کی موت مروں گا زمین پرجینے کا اس جہان میں حق چھوڑ جاؤں گا

روئیں گے میری یاد میں مہر و مہ و نجومان آئنوں میں عکس قلق چھوڑ جاؤں گا

وہ اوس کے درخت لگاؤں گا جا بہ جاہر بوند میں لہو کی رمق چھوڑ جاؤں گا

گزروں گا شہر سنگ سے جب آئنہ لیےچہرے کھلے دریچوں میں فق چھوڑ جاؤں گا

پہنچوں گا صحن باغ میں شبنم رتوں کے ساتھسوکھے ہوئے گلوں میں عرق چھوڑ جاؤں گا

ہر سو لگیں گے مجھ سے صداقت کے اشتہارہر سو محبتوں کے سبق چھوڑ جاؤں گا

ساجدؔ گلاب چال چلوں گا روش روشدھرتی پہ گلستان شفق چھوڑ جاؤں گا

— اقبال ساجد