5 اشعار

کل شب دل آوارہ کو سینے سے نکالا

Kal shab dil aawara ko seene se nikala

کل شب دل آوارہ کو سینے سے نکالایہ آخری کافر بھی مدینے سے نکالا

یہ فوج نکلتی تھی کہاں خانۂ دل سےیادوں کو نہایت ہی قرینے سے نکالا

میں خون بہا کر بھی ہوا باغ میں رسوااس گل نے مگر کام پسینے سے نکالا

ٹھہرے ہیں زر و سیم کے حق دار تماشائیاور مار سیہ ہم نے دفینے سے نکالا

یہ سوچ کے ساحل پہ سفر ختم نہ ہو جائےباہر نہ کبھی پاؤں سفینے سے نکالا

— اقبال ساجد