6 اشعار

اک طبیعت تھی سو وہ بھی لاابالی ہو گئی

Ek tabiyat thi so woh bhi la-ubali ho gayi

اک طبیعت تھی سو وہ بھی لاابالی ہو گئیہائے یہ تصویر بھی رنگوں سے خالی ہو گئی

پڑھتے پڑھتے تھک گئے سب لوگ تحریریں مریلکھتے لکھتے شہر کی دیوار کالی ہو گئی

باغ کا سب سے بڑا جو پیڑ تھا وہ جھک گیاپھل لگے اتنے کہ بوجھل ڈالی ڈالی ہو گئی

اب تو دروازے سے اپنے نام کی تختی اتارلفظ ننگے ہو گئے شہرت بھی گالی ہو گئی

کھینچ ڈالا آنکھ نے سب آسمانوں پر حصاربن چکے جب دائرے پرکار خالی ہو گئی

صبح کو دیکھا تو ساجدؔ دل کے اندر کچھ نہ تھایاد کی بستی بھی راتوں رات خالی ہو گئی

— اقبال ساجد