5 اشعار

جانے کیوں گھر میں مرے دشت و بیاباں چھوڑ کر

Jaane kyon ghar mein mere dasht-o-bayaban chhoR kar

جانے کیوں گھر میں مرے دشت و بیاباں چھوڑ کربیٹھتی ہیں بے سر و سامانیاں سر جوڑ کر

کتنی نظریں کتنی آسیں کتنی آوازیں یہاںلوٹ جاتی ہیں در و دیوار سے سر پھوڑ کر

جانے کس کی کھوج میں پیہم بگولے آج کلپھر رہے ہیں شہر کی گلیوں میں صحرا چھوڑ کر

مجھ پہ پتھر پھینکنے والوں کو تیرے شہر میںنرم و نازک ہاتھ بھی دیتے ہیں پتھر توڑ کر

بس رہا ہوں آج اس ماحول میں ساجدؔ جہاںلوگ باراتوں میں جاتے ہیں جنازے چھوڑ کر

— اقبال ساجد