17 اشعار

آبنائے

Aabnae

آنکھ کے آبنائے میںڈوبا مچھیرا نہ جانے

فلک تاز دھارے میںگاتی نہاتی ہوئی سرخ لڑکی کی جاں

اس مچھیرے میں ہےلڑکی کے گیتوں میں

لنگر انداز کشتی ہےلہروں کی کروٹ ہے

ساحل کا پھل ہےمچھیرے کی تازہ جوانی ہے

مستی بھرا نیلا پانی ہےلڑکی امنڈتی ہوئی وقت کی دھار ہے

جس کے ریلے سےمحشر بپا کرتی لہریں نکلتی ہیں

لڑکی سمندر ہےگہرے سمندر کی گھمبیر خاموشی

پانی سے اڑتی ہوئی ڈاریںچکنے کنارے

ہر اک چیز لڑکی کے گیتوں کے اندر ہےلڑکی پرندہ ہے آبی پرندہ

سمندر کے بے انت سینے پہاڑتا ہے صدیوں سے

صدیوں سے لمبی معمر چٹانوں سے جڑتا ہےمڑتا ہے واپس

سمندر کے بے انت پھیلاؤ کی سمتلڑکی کوئی معجزہ ہے

سمندر میں جوں ہی اترتی ہےپانی کو رنگین کرتی ہے

لہروں کی چادر کو اوپر اٹھاتی ہےنیچے سے موتی کے انبار لاتی ہے

موتی اٹھاتے ہوئے گیت گاتی ہےلڑکی کے گیتوں کے معنی

فقط اس مچھیرے پہ روشن ہیںجو آنکھ کے آبنائے میں ڈوبا پڑا ہے

— اقتدار جاوید