18 اشعار

ناشتے کی میز پر

Nashte ki mez par

پلک نواز بوڑھے والدین کی نگاہاہل خاندان پر پڑے

تو دور افق کی گھاٹیوں سےصبح

اپنے رنگ و نور سے لدی پھندی نکل پڑےمکاں جہاں مقیم بوڑھے والدین ہوں

وہاں رکےرکے تو اپنا سونے جیسا روپ اس مکاں پہ وار دے

مکاں کے سارے زنگ کو اتار دےیہ لوگ تو عظیم شہر ہیں

عظیم شہر کا قدیم اندرون ہیںیہاں وہاں تھڑے ہیں

جن پہ لوگ بیٹھ کرتمام دن کی راکھ کو اڑا سکیں

ذرا سا ہنس سکیںذرا سا اپنے آپ کو رلا سکیں

یہ لوگ تو سرائے کی کلید ہیںجہاں پہ دنیا والے اک سکوں کی رات کاٹ لیں

جو چاروں اور گھیرتا ہے وہ محیط پاٹ لیںیہ لوگ تو خلا کی ثقل ہیں

فلک کا رنگ ہیںاگر نہ ان کا ساتھ ہو

نہ دھوپ ہو کرن بھریفلک نہ نیل رنگ ہو

یہ کون ہیںکہ جن کی عطر سے بھری ہوا

کہ جن کا عطر سے بھرا وجود عکس ریز ہےکہاں سے آ رہی ہیں

ارغنون کی دھنیںیہ ارغوانی باغ ہے کہ

ناشتے کی میز ہےنزار کم بدن

جو ایک قاش سنگترے کی ناشتے کی میز سے اٹھائیںتو پھلوں میں رس پڑے

جو دھیرے سے ذرا مسکرائیںسارا خاندان ہنس پڑے

— اقتدار جاوید