19 اشعار

قالین

Qaaleen

گڈریے کے سر بانسری میںہرن کی لبالب بھری چوکڑی

آنکھ میںاور گردن میں لقے کبوتر کی دم رہ گئی

پہلے بجری بچھائی گئیاور پانی کا چھڑکاؤ کرتے ہوئے

فرش کا سینہ رگڑا گیاآئنے کی طرح

فرش کا سینہ چمکاتو رنگین دھاگوں بھرا ایک قالین

اس پر بچھایا گیاایک چھوٹے سے کمرے میں

اتنا بڑا گہرے سایوں بھراتھوڑا بے آب

تھوڑا ہرا ایک جنگل بسایا گیامیں درختوں پہ پھل توڑنے کے لیے

اک تنے پر چڑھاایک منتر پڑھا

تازہ پھل توڑتاپھل کو میں دانتوں سے توڑتا

نیچے آیاچمکتی ہوئی ندی سے آب سیمیں پیا

یک بیک جسم ڈھیلا پڑااور میں خود سے لڑا

میں نے بھالا سنبھالاسنبھل کر ہر اک آنت کو کھینچ کر

میں نے باہر نکالاذرا نرم قالین اپنی جگہ سے ہلا

دیکھتے دیکھتےنرم قالین کے شیر میں جاں پڑی

شیر نے ایک بھرپور انگڑائی لینیند سے تھوڑا جاگا

بھری مستی میں جبڑا کھولامرا دل دھڑکنے لگا

شیر آخر دہاڑاگڈریے کے سر بانسری میں

ہرن کی لبالب بھری چوکڑی آنکھ میںاور گردن میں لقے کبوتر کی دم رہ گئی

— اقتدار جاوید