23 اشعار

اندھراتا

Andherata

میں پردہ گرانے لگا ہوںپلک سے پلک کو

ملانے لگا ہوںزمانہ مرے خوابوں میں آ کے

رونے لگا ہےمیں اونٹوں کو لے آؤں

آخر کہاں جا کے چرنے لگے ہیںجہاں پر

پرندے پروں کو نہیں کھولتے ہیںجہاں سرحدیں ہیں فلک جیسی قائم

وہاں پاؤں دھرنے لگے ہیںمیں اونٹوں کو لے آؤں واپس

میں بھیڑوں کو دوہ لوںکئی ماؤں کی چھاتیاں

چھپکلی کی طرحسوکھے سینے کی چھت سے

اک عرصے سے لٹکی ہوئی ہیںانہیں جا کے موہ لوں

کئی فاختائیںجو نکلی تھیں کہہ کر

کہ آئیں گی واپسچمکتی دوپہروں سے پہلے

وہ مرگ آسا اندھے خلاؤں میںبھٹکی ہوئی ہیں

گدھے والابے وزن روئی کو لادے ہوئے

شہر سے لوٹ آیا ہےہلکی تھی روئی

بہت بھاری دن تھاطلا دوز تاجر نے موتی بھی

لانے کا اس سے کہا تھاجو رنگیں عروسانہ جوڑے میں جڑنے ہیں

ناداںدلہن کو بھی معلوم ہے

تیز بارش تو ہونی ہےاولے تو پڑنے ہیں

نازک سی ٹہنی پہ جھولا ہےجھولے کی رسی ہے نازک

سو رسی میں بل آخر کار پڑے ہیںاندھراتا بڑھنے لگا ہے

مچھیرے کو دریا سے واپس بھی آنا ہےتنور میں گیلی شاخیں جلانی ہیں

تنور کی طرحخوابوں بھری جل رہی ہے

اسے بھی کشادہ بھرے بازوؤں میں تو آنا ہے!!

— اقتدار جاوید