22 اشعار

چیت کا پھول

Cheet ka phool

میں چیت کا پھول ہوںاور

عاکف ہوں مٹی کے نیچےیہ چلہ کشی ہے

کسی اور ہیئت میں ڈھلنے کیچالیس راتوں کا چلا ہے

بھاری کناروں کا تلا ہےدریا سے اڑتی ہوا

اپنی لہروں بھری شال پھیلائےبوڑھا فلک تھوڑے آنسو بہائے

سیہ ابر پلکوں کی جھالر اٹھائےچمکتی ہوئی دھوپ آخر میں آئے

مطلا بدن کو بچھائےپہاڑوں کے قدموں سے

لمبے سمندر کی وسعت بھری سرحدوں تک!زمیں اک بڑی سیپ ہے

بیچ بارش کا وحدانیت سے لبالب بھراایک قطرہ ہے

جو سیپ میں گرتا ہےاور موتی میں ڈھلتا ہے

حرفوں کےکون ایسے جملے بناتا ہے

جملے میںاک کوڈ کی طرح

معنی چھپاتا ہےعشرے گزرتے ہیں

اک نسل آتی ہےمعنی کو

جملے کی زنجیر سے آ کے آزاد کرتی ہےمعنی بھرے چیت کا پھول ہے

چیت کے پھول کااور تری انگلیوں کا

ہزاروں برس کا پرانا تعلق ہےمیں چیت کا پھول ہوں

اور معلق پڑا ہوںکسی درمیانی زمانے میں

پہنچوں گابرفیلے رستے سے ہوتا

خنک رت میںخوشبو بھرے پھول کی میٹھی مٹھی

کی تحویل سے ہوتااپنے ابد سے

پرانے ٹھکانے میں!!

— اقتدار جاوید