8 اشعار

بھیڑوں کو لے کے صبح گڈریا نکل پڑا

Bheron ko le ke subah gadariya nikal pada

بھیڑوں کو لے کے صبح گڈریا نکل پڑاسورج نے آنکھ کھول دی دریا بھی چل پڑا

رس اس میں پھیلنے لگا یا سانس چل پڑیشاخ شجر پہ جان پڑی تھی کہ پھل پڑا

چشمہ تھا جس پہ صبح پرندے اترنے تھےمیں عین آدھی رات کو خود سے نکل پڑا

سیال جیسے ہو کے مرے ساتھ ہو گئیبھٹی پہ کوئی سونے کا ٹکڑا پگھل پڑا

جیسے کوئی بغیر توقع پلٹ پڑےجیسے دیا اطاق میں خود آپ جل پڑا

موضوع اور بھی ہیں کہیں پر چھپے ہوئےتیرا خیال ہی تھا جو ایسے اچھل پڑا

اک شاخ پر نہیں تو کھلا دوسرے پہ پھولہوتا ہے مسئلے کا کہیں حل پہ حل پڑا

پھیلا کچھ اس طرح سے کہ ہر شے لپیٹ لیآ کر دو آبے میں کوئی پانی مچل پڑا

— اقتدار جاوید