9 اشعار

یہ رنگ اٹھا کے مخفی خزانے سے آیا ہوں

Yeh rang utha ke makhfi khazane se aaya hoon

یہ رنگ اٹھا کے مخفی خزانے سے آیا ہوںمیں جیسے آنے والے زمانے سے آیا ہوں

ایسی دعا ہوں جو نہیں ہونی کبھی قبولاک تیر ہوں پلٹ کے نشانے سے آیا ہوں

پھیلی قدیم دوست کی چاروں طرف مہکپھل لے کے کتنے پیڑ پرانے سے آیا ہوں

ظاہر کہاں پہ ہونا تھا بے خانماں سرشتتیرے جہاں میں تیرے بہانے سے آیا ہوں

اترے نہیں تھے دل سے بھی ایسے تو واقعاتکچھ یاد اس کو پینے پلانے سے آیا ہوں

مجھ کو بھرے جہاں میں کوئی پوچھتا نہ تھادنیا کو میں نظر ترے آنے سے آیا ہوں

میں نے کہاں جھلکنا تھا ان پانیوں کے بیچخود کو نظر میں شیشہ بنانے سے آیا ہوں

باغوں میں پیڑ پیڑ پہ پھل پھل میں ذائقہپا کر یہ تحفے ایک گھرانے سے آیا ہوں

اک اور شکل میں ذرا اک اور طرح میںاک دوسرے میں رنگ ملانے سے آیا ہوں

— اقتدار جاوید