9 اشعار

دیکھا نہ کسی نے تھا ستارے پہ ستارہ

Dekha na kisi ne tha sitare pe sitara

دیکھا نہ کسی نے تھا ستارے پہ ستارہچمکا ترے خوش رنگ غرارے پہ ستارہ

اب کتنے ستارے مرے سارے پہ ہیں روشنتھا ایک فروزاں مرے سارے پہ ستارہ

میں کشف کے با وصف نہیں دیکھ سکا تھااس رنگ سے دریا کے کنارے پہ ستارہ

نکلا ہے اشارے پہ ستارہ سر آفاقآفاق میں ڈوبے گا اشارے پہ ستارہ

آتا ہے نظر خواب کے تاریک جہاں میںعاشق ہے کسی خواب کے مارے پہ ستارہ

یہ اور دیاروں میں محبت نہیں ملنینگراں ہے اسی شہر ہمارے پہ ستارہ

گلیوں کو منور بھی بہت کرتا ہے لیکنسجتا ہے پہ رنگوں بھرے دھارے پہ ستارہ

چمکے گا سیہ رات کے سینے سے نکل کراس وقت نہیں عین نظارے پہ ستارہ

خود اپنے بھروسے پہ ابھرتا ہے ہر اک راتکانپے نہ کسی اور کے پارے پہ ستارہ

— اقتدار جاوید