9 اشعار

کیسے آئینے سے اس نوع کا جوہر نکلا

Kaise aaine se is nau' ka jauhar nikla

کیسے آئینے سے اس نوع کا جوہر نکلایہ چمن زار بھی کس دشت میں آ کر نکلا

یہ سلیمان کی جنگاہ تھی کیڑی خاطرمجھ سے جیسے متحارب کوئی لشکر نکلا

یہ رڑک آنکھ میں موجود ہے پہلے دن سےپانیوں سے بھرے میدان سے پتھر نکلا

اول اول جو تھا بے شکل وہ پورا ہو کراب مرے ورطۂ اظہار سے باہر نکلا

ایک اک لفظ سے صد رنگ مطالب پھوٹےجب کنواں کھودا تو نیچے سے سمندر نکلا

اس پرندے نے نہیں دیکھی تھی ایسی وسعتوہ ہوا سے کبھی نیچے کبھی اوپر نکلا

جیسی موجود تھی دل میں کوئی خواہش سو وہ ہےکوئی مشرک نہ کوئی مکے سے منکر نکلا

کسی جانب بھی نہ پلڑے بھرا شاہین گراجس ترازو پہ بھی تولا وہ برابر نکلا

جو اڑا دیتا فلک اور ستاروں کا ہجومآفتاب ایسا مری راتوں میں اکثر نکلا

— اقتدار جاوید