9 اشعار

یہ دریا ہے کوئی کہ پانی پانی گفتگو ہے

Yeh darya hai koi ke paani paani guftugu hai

یہ دریا ہے کوئی کہ پانی پانی گفتگو ہےہوا کی ساحلوں سے بادبانی گفتگو ہے

سمندر تیری لہریں ہیں کہ زیریں اور زبریںسمندر تیری ساری بے کرانی گفتگو ہے

اکٹھے کر رہی ہے مامتا کومل سے تنکےشجر سے شاخچوں کی آشیانی گفتگو ہے

یہ ڈھلتی چھاؤں ہے قسمت سے ہاتھ آتے ہیں اشعارکہ دولت کی طرح یہ آنی جانی گفتگو ہے

الگ ہیں باغ میں رنگوں کی مستعمل زبانیںپرندے کے گلے کی سرخ گانی گفتگو ہے

بنایا ہے انہی لفظوں کو جیسے چھاج چھلنیکہ صحراؤں کے دن کاٹے ہیں چھانی گفتگو ہے

گلی کوچوں میں خاموشی کا برپا ہے کوئی شورکہ شہروں سے یہی نقل مکانی گفتگو ہے

چھلک اٹھتی ہے راجوں اور مہراجوں کے آگےکسی کی رنگ زا نیندوں کی رانی گفتگو ہے

جو میں اپنی طرف سے تازہ تازہ کہہ رہا ہوںکسی میرے ہی جیسے کی پرانی گفتگو ہے

— اقتدار جاوید