9 اشعار

دل کے کعبے کو گرا دیتا ہے ڈرتا بھی نہیں

Dil ke Kaabe ko gira deta hai darta bhi nahin

دل کے کعبے کو گرا دیتا ہے ڈرتا بھی نہیںکون ہے حجاج بن یوسف جو مرتا بھی نہیں

یہ ستارہ آسماں کی اس تماشا گاہ میںڈوب جاتا ہے تو دوبارہ ابھرتا بھی نہیں

دھوپ کیسی ہے جو اس پانی میں گھلتی ہی نہیںرنگ کیسا ہے جو شعروں سے اترتا بھی نہیں

شور ہوتا جا رہا ہے لہریں رکتی ہی نہیںپیڑ اگتے جا رہے ہیں دشت بھرتا بھی نہیں

آنکھ ہے جو جذب کر لیتی ہے ہر منظر کہیںیہ سمندر ہے کہ جو بھر کر بپھرتا بھی نہیں

یہ زمیں یہ چاند سیارے ہیں سب دریوزہ گراصل میں سورج کہیں نیچے اترتا بھی نہیں

اس میں بے رنگی کی آمیزش ضروری ہے بہترنگ اک ہو تو زیادہ دن ٹھہرتا بھی نہیں

رفتہ رفتہ ہم بنا لیتے ہیں وہ ایماں کا جزجو تقاضا ہم سے خود ایمان کرتا بھی نہیں

موت سے کس کو مفر ہوتا ہے لیکن آدمیبات یہ ہے اصل میں اک بار مرتا بھی نہیں

— اقتدار جاوید