8 اشعار

ہمارے کام رفتہ رفتہ سارے بن رہے تھے

Hamare kaam rafta rafta saare ban rahe the

ہمارے کام رفتہ رفتہ سارے بن رہے تھےکہ دریا چل پڑا تھا اور کنارے بن رہے تھے

کسی سے گفتگو آغاز ہونا چاہتی تھیخدا نے بولنا تھا تیس پارے بن رہے تھے

بچھایا جا چکا تھا اک بچھونا آسماں پرابھی مہتاب بننا تھا ستارے بن رہے تھے

چھپائی جا رہی تھی آگ سی اس میں کوئی شےہوا معلوم کہ وہ دل ہمارے بن رہے تھے

مری نگران تھیں آنکھیں جہاں پر تو کھڑی تھیجہاں پر تیری نظریں تھیں نظارے بن رہے تھے

رکی تھی حلق میں آواز سے ملتی ہوئی چیزتھی کوئی بات جو اتنے اشارے بن رہے تھے

جہاں پر تیز بارش تھی وہیں تھی بند ڈبیہوہیں سے ہوتے ہوتے سرخ دھارے بن رہے تھے

گلی میں شور سا برپا تھا اور بچے گھروں سےنکلنے والے تھے رنگیں غبارے بن رہے تھے

— اقتدار جاوید