9 اشعار

یہ مظاہر دیکھ کر ایماں سے بھر جاتا ہوں میں

Yeh mazahir dekh kar imaan se bhar jaata hoon main

یہ مظاہر دیکھ کر ایماں سے بھر جاتا ہوں میںایسے اٹھتا ہے یقیں خود سے کہ ڈر جاتا ہوں میں

رنگ ہوں اور آمد و رفت سخن اپنی مریوقت پر آتا ہوں اپنے وقت پر جاتا ہوں میں

خواب ہوں اور سامنے آتا ہوں نیندوں میں فقطدیکھ تیرے بخت سے اے کاریگر جاتا ہوں میں

یہ کنواں ہے ٹھنڈے پانی کا بڑی شہراہ پرروز ہو جاتا ہوں خالی روز بھر جاتا ہوں میں

کھینچ لاتا ہوں کسی تحت الثری سے اپنا آپپوری دنیا پر چمکتا ہوں اتر جاتا ہوں میں

جیسے چشمہ پھوٹ پڑتا ہے پہاڑوں سے معاًجیسے دریاؤں کا دھارا ہوں اتر جاتا ہوں میں

ایک طوفان ضیا ہوں اندھے ہو جاتے ہیں لوگایک سیلاب بلا ہوں جس کے گھر جاتا ہوں میں

ابر ہوں اور جمع ہوتا ہوں چھتوں کے واسطےاک ہوا ہوں اور شہروں سے گزر جاتا ہوں میں

اپنی اپنی باریاں ہیں اپنا اپنا وقت ہےاے مری رو رک یہاں پر اے ہنر جاتا ہوں میں

— اقتدار جاوید