9 اشعار

کئی سمتوں میں چلتا جا رہا ہوں

Kayi simton mein chalta ja raha hoon

کئی سمتوں میں چلتا جا رہا ہوںکہ چشمہ ہوں ابلتا جا رہا ہوں

کئی لہریں اٹھاتا جا رہا ہوںکئی جوہر اگلتا جا رہا ہوں

اسی پانی سے میں ظاہر ہوا تھااسی پانی میں ڈلتا جا رہا ہوں

رکوں گا کیا ہتھیلی پر کسی کیکہ موتی ہوں پھسلتا جا رہا ہوں

بڑی مشکل سے جو حاصل ہوئی تھیوہی رنگت بدلتا جا رہا ہوں

کوئی پہنچا رہا ہے میرا حصہمیں پتھر میں ہوں پلتا جا رہا ہوں

ثمر بار آوری کا میرا موسممسلسل ہے سو پھلتا جا رہا ہوں

جزیرے ہیں ابھرتے جا رہے ہیںسمندر ہوں نگلتا جا رہا ہوں

دعا ہوں جو لبوں پر آ گئی ہےکوئی طوفاں ہوں ٹلتا جا رہا ہوں

— اقتدار جاوید