5 اشعار

حفاظت کا نشہ پھیلا تو پھر نقصان پہنچا

Hifazat ka nasha phaila to phir nuqsan pahuncha

حفاظت کا نشہ پھیلا تو پھر نقصان پہنچاہرن اس وقت دوڑا جب شکاری آن پہنچا

سمندر رات کا تھا جب سفر کی کشتیاں تھیںجزیرہ ڈوبنے والا تھا اور مہمان پہنچا

کہیں رستے ترے محدود ہوتے جا رہے تھےمیں تیرے واسطے لے کر کئی امکان پہنچا

دعائیں بازوؤں پر باندھ کر ہم جا چکے تھےہمارے شہر میں جب موت کا فرمان پہنچا

عجب مہمان کا عالم تھا جب اس نے صدا دیعجب گھر بار کا عالم تھا جب مہمان پہنچا

— اقتدار جاوید