9 اشعار

کوئی الف لیلیٰ کا خطہ دشتوں والا غاروں والا

Koi Alf Laila ka khitta dashton wala gharon wala

کوئی الف لیلیٰ کا خطہ دشتوں والا غاروں والاشہر کوئی بغداد نما ہے کوچہ ہے عطاروں والا

ڈھولوں کی رفتار میں تیزی چڑیوں کی چہکار میں تیزیفصل کوئی ہے پکنے والی موسم ہے تہواروں والا

بھول گئے ہیں اپنی ہستی موروں کی ہے اور ہی مستیصبح سفید سی لاچے والی لال گلابی نعروں والا

کشتی ہچکولوں میں آئی مستی کیا بولوں میں آئییہ چڑھتل دریاؤں والی یہ تمغہ پتواروں والا

جو ہے پاس نچھاور کر دوں جنگل میں مہکاریں بھر دوںکستوری کی مہک اڑا دوں شیر ہے دور کچھاروں والا

ایک نشانی پکی اس کی آٹا اس کا چکی اس کیقفل پرانی لکڑی کا ہے گیٹ بڑا درباروں والا

پکی روٹی یاد کروں گی میں بھی اپنی جھولی بھروں گیاب ششماہی بعد آئے گا کاتک میں سیپاروں والا

بخت بڑا ہے میں بھی بڑا ہوں میں مواجہہ آگے کھڑا ہوںگھڑی درودوں والی ہے یہ خطہ پاک دیاروں والا

اپنی نیندیں اپنے سپنے برتن چین سے مہنگے اپنےآوا اپنا ٹبے اوپر چکا ہے کمہاروں والا

— اقتدار جاوید